سکوت جسم کا احساس جس پیکر پہ رکھا تھا
By ahmad-ayazFebruary 24, 2025
سکوت جسم کا احساس جس پیکر پہ رکھا تھا
دریں اثنا وہ جسم خاک اک محور پہ رکھا تھا
بہت مانوس سی لگنے لگی وہ لمس کی حدت
لرزتے ہاتھ کو میں نے جب اس کے در پہ رکھا تھا
حقیقت کیا عیاں ہوتی کسی تصویر عکسی سے
وہ اک جھوٹا نظارہ تھا وہ جس منظر پہ رکھا تھا
یقیں محکم تھا وہ ہے بے حسی کی مورتی لیکن
یہ سر پھر بھی عقیدت سے اسی پتھر پہ رکھا تھا
چھلک جانا تھا آنکھوں سے لہو میری کہانی پر
مرے ماضی کا ہر لمحہ کسی خنجر پہ رکھا تھا
جب اس کو دیکھنی تھی بھیڑ میں بازار کی رونق
تب اس بچے نے گھر کا بوجھ اپنے سر پہ رکھا تھا
دریں اثنا وہ جسم خاک اک محور پہ رکھا تھا
بہت مانوس سی لگنے لگی وہ لمس کی حدت
لرزتے ہاتھ کو میں نے جب اس کے در پہ رکھا تھا
حقیقت کیا عیاں ہوتی کسی تصویر عکسی سے
وہ اک جھوٹا نظارہ تھا وہ جس منظر پہ رکھا تھا
یقیں محکم تھا وہ ہے بے حسی کی مورتی لیکن
یہ سر پھر بھی عقیدت سے اسی پتھر پہ رکھا تھا
چھلک جانا تھا آنکھوں سے لہو میری کہانی پر
مرے ماضی کا ہر لمحہ کسی خنجر پہ رکھا تھا
جب اس کو دیکھنی تھی بھیڑ میں بازار کی رونق
تب اس بچے نے گھر کا بوجھ اپنے سر پہ رکھا تھا
23939 viewsghazal • Urdu