تڑپ جاتا ہے دل جب دوریوں کی بات ہوتی ہے

By irfan-aazmiFebruary 6, 2024
تڑپ جاتا ہے دل جب دوریوں کی بات ہوتی ہے
ادھر سورج نکلتا ہے ادھر جب رات ہوتی ہے
کبھی اک بات ہوتی ہے ہزاروں بات کے پیچھے
کبھی اک بات کے اندر ہزاروں بات ہوتی ہے


مقام عدل سے گزرے دیار صدق بھی دیکھا
ہر اک عالم میں دنیا اہل زر کے ساتھ ہوتی ہے
یہاں ظالم نہیں کوئی تو بارش کیوں نہیں ہوتی
ادھر برسات ہوتی ہے ادھر برسات ہوتی ہے


مکمل طور پر ہم سامنے آنے سے ڈرتے ہیں
ہماری اصل حالت تو پس حالات ہوتی ہے
حق و باطل ازل سے برسر پیکار ہیں لیکن
نہ اس کی جیت ہوتی ہے نہ اس کی مات ہوتی ہے


بگولوں کی جگہ اگتی ہیں خود رو جھاڑیاں اکثر
عرب کے ریگ زاروں میں بھی اب برسات ہوتی ہے
مرے ہر کام کا مقصد ہے عرفانؔ اس کی خوشنودی
مری ہر فکر کا محور اسی کی ذات ہوتی ہے


30982 viewsghazalUrdu