تالاب دریا جھیل سمندر نہیں ہوئے
By ankit-mauryaFebruary 5, 2024
تالاب دریا جھیل سمندر نہیں ہوئے
اس کی نگاہ ناز سے بڑھ کر نہیں ہوئے
کب سے خدا سمجھ کے جسے پوجتے رہے
اس کی نظر کے سائے بھی ہم پر نہیں ہوئے
سر سے نہ ایک شخص کا نشہ اتر سکا
سو ہم نشہ میں دھت کبھی پی کر نہیں ہوئے
جتنے اداس ہم تجھے کھو کر ہوئے ہیں آج
اتنے تو خوش کبھی تجھے پا کر نہیں ہوئے
تو جس طرف بھی جائے ادھر چل پڑیں گے دوست
ہم تیرے ساتھ سوچ سمجھ کر نہیں ہوئے
دنیا تلی تھی ہم کو بنانے پہ دیوتا
پر ہم کسی بھی حال میں پتھر نہیں ہوئے
اس کی نگاہ ناز سے بڑھ کر نہیں ہوئے
کب سے خدا سمجھ کے جسے پوجتے رہے
اس کی نظر کے سائے بھی ہم پر نہیں ہوئے
سر سے نہ ایک شخص کا نشہ اتر سکا
سو ہم نشہ میں دھت کبھی پی کر نہیں ہوئے
جتنے اداس ہم تجھے کھو کر ہوئے ہیں آج
اتنے تو خوش کبھی تجھے پا کر نہیں ہوئے
تو جس طرف بھی جائے ادھر چل پڑیں گے دوست
ہم تیرے ساتھ سوچ سمجھ کر نہیں ہوئے
دنیا تلی تھی ہم کو بنانے پہ دیوتا
پر ہم کسی بھی حال میں پتھر نہیں ہوئے
36073 viewsghazal • Urdu