تعلقات کی یہ روشنی ہے کتنی دیر

By wasim-nadirJanuary 5, 2024
تعلقات کی یہ روشنی ہے کتنی دیر
ترے لبوں پہ مری شاعری ہے کتنی دیر
وہی ملال کا سورج وہی گلی کوچہ
اے خواب یار تری زندگی ہے کتنی دیر


تجھے بھی خواہشیں تیری تباہ کر دیں گی
اے حسن یار تری سادگی ہے کتنی دیر
بجھے پڑے ہیں ترے شہر میں کئی سورج
میں جانتا ہوں یہ زندہ دلی ہے کتنی دیر


ترے خطوں پہ نظر پڑتی ہے تو سوچتا ہوں
مری نگاہ میں یہ روشنی ہے کتنی دیر
اب اس کے بعد وہی دشت ہے وہی صحرا
تمہاری آنکھ میں نادرؔ نمی ہے کتنی دیر


88925 viewsghazalUrdu