تمنا کا بدن بکھرا پڑا ہے

By wasim-nadirJanuary 5, 2024
تمنا کا بدن بکھرا پڑا ہے
وہ اک گلدان جو ٹوٹا پڑا ہے
تری آہٹ پہ شاید چونک اٹھے
بہت دن سے بدن گونگا پڑا ہے


جسے دامن میسر ہے وہ روئے
یہاں اک عمر کا سوکھا پڑا ہے
ابھی پہچان باقی ہے ہماری
ابھی تک گاؤں میں حصہ پڑا ہے


تجھے جلدی ہے واپس لوٹنے کی
تعلق کا سرا الجھا پڑا ہے
جو چاہے مانگ لو قیمت تم اپنی
ابھی کردار پر پردہ پڑا ہے


33077 viewsghazalUrdu