تنگ نظری میں ہر اک دانا کی دانائی گئی

By irfan-aazmiFebruary 6, 2024
تنگ نظری میں ہر اک دانا کی دانائی گئی
حادثوں کے شہر میں آنکھوں کی بینائی گئی
پھول کی خوشبو گئی شاخوں کی انگڑائی گئی
باغباں ایسے ملے گلشن کی رعنائی گئی


سیم و زر کی کوکھ میں پلتے رہے فتنے فساد
مفلسی ہر دور میں سولی پہ لٹکائی گئی
چھوٹی چھوٹی بات پہ ہونے لگیں خونریزیاں
حلم بندہ پروری شان شکیبائی گئی


میری سچائی پہ عادل کو نہ آئے گا یقین
اس عدالت میں بہت جھوٹی قسم کھائی گئی
جب نظر بدلی تو دل بھی ہو گیا کوتاہ بیں
درد کی وسعت گئی زخموں کی گہرائی گئی


جاگ اٹھے انسان کا سویا ہوا شاید ضمیر
صبح نو اس آرزو میں بار بار آئی گئی
قوم و ملت کے لیے عرفانؔ کیا کرتے جہاد
زر زمیں کے واسطے ساری توانائی گئی


36863 viewsghazalUrdu