تپش کیوں بڑھ رہی ہے راستوں کی
By chand-kakralviJanuary 19, 2024
تپش کیوں بڑھ رہی ہے راستوں کی
قضا آنے کو ہے کیا آبلوں کی
ہمارے ہاتھ ہیرا ہو گئے ہیں
گھسائی کرتے کرتے پتھروں کی
ہوا کے ساتھ چلنا پڑ رہا ہے
بڑی مجبوریاں ہیں بادلوں کی
جہاں تک ساتھ لے جائیں ہوائیں
وہیں تک زندگی ہے خوشبوؤں کی
یقیناً پھول کوئی کھل گیا ہے
نہیں تو بھیڑ کیوں ہے تتلیوں کی
اسی کے سامنے روؤں گا جا کر
جو قیمت جانتا ہے آنسوؤں کی
ہٹا کر چاندؔ نے چہرے سے پردہ
زبانیں کاٹ دیں تاریکیوں کی
قضا آنے کو ہے کیا آبلوں کی
ہمارے ہاتھ ہیرا ہو گئے ہیں
گھسائی کرتے کرتے پتھروں کی
ہوا کے ساتھ چلنا پڑ رہا ہے
بڑی مجبوریاں ہیں بادلوں کی
جہاں تک ساتھ لے جائیں ہوائیں
وہیں تک زندگی ہے خوشبوؤں کی
یقیناً پھول کوئی کھل گیا ہے
نہیں تو بھیڑ کیوں ہے تتلیوں کی
اسی کے سامنے روؤں گا جا کر
جو قیمت جانتا ہے آنسوؤں کی
ہٹا کر چاندؔ نے چہرے سے پردہ
زبانیں کاٹ دیں تاریکیوں کی
39017 viewsghazal • Urdu