تاروں کی جھمکتی باڑھ تلے آنکھوں میں رات گزاری ہے

By abid-razaFebruary 17, 2025
تاروں کی جھمکتی باڑھ تلے آنکھوں میں رات گزاری ہے
اور آٹھ منٹ کی دوری پر سورج کی زرد عماری ہے
گردوں پہ کمندیں ڈال چکے خورشید اچھالا نیزے پر
امکان کی سرحد پار ہوئی اب آگے کی تیاری ہے


طبلے کی گت لہراتی ہے کافوری شمعوں کی لو پر
اور نیمۂ شب کے محضر میں سنگت کو اک درباری ہے
مستقبل کے سیارے پر کچھ صاحب امر مشیں زادے
مصروف ہیں کار دنیا میں اور اپنے لیے بیکاری ہے


بازار چڑھا تو سوداگر خوابوں کے بغچے باندھ چلے
رستے میں مگر شب خون پڑا شمشیر اجل نے ماری ہے
جس کارن دیس بدیس لڑے لشکر پیادے سالار جواں
قصباتی قحبہ خانے کی لچکیلی سی بھٹیاری ہے


ایمان اور صبر کی وادی سے جنت کی طرف جانا تھا مگر
کچھ ایماں کی کمزوری ہے کچھ صبر کا پتھر بھاری ہے
گر وقت کا دھارا ٹوٹ گیا پھر محفل ہست و بود کہاں
بہتے ہوئے دریا پر تو نے کیا سوچ کے لاٹھی ماری ہے


54971 viewsghazalUrdu