تسلیم کر رہا ہوں کہ تیرا رقیب ہوں

By wasim-nadirJanuary 5, 2024
تسلیم کر رہا ہوں کہ تیرا رقیب ہوں
تو سوچتا تو ہوگا میں کتنا عجیب ہوں
احسان کر رہا ہے ترا ہجر ان دنوں
میں ان دنوں خدا کے زیادہ قریب ہوں


مجھ کو تمہارے عشق نے دی ہیں تسلیاں
کچھ لوگ کہہ رہے تھے میں کتنا غریب ہوں
افسانہ مجھ سے کوئی مکمل نہ ہو سکا
تو جانتا نہیں میں ادھورا ادیب ہوں


اپنی ہتھیلیوں سے یہی پوچھتا ہوں میں
کچھ تو پتہ چلے کہ میں کس کا نصیب ہوں
ممکن ہے اس کے بعد کوئی شے نہ دیکھ پاؤں
میں آج رات چاند کے بے حد قریب ہوں


20441 viewsghazalUrdu