ترے بغیر ہوں زندہ مگر یہ حالت ہے
By farooq-noorFebruary 6, 2024
ترے بغیر ہوں زندہ مگر یہ حالت ہے
یہ آتی جاتی ہوئی سانس بھی اذیت ہے
میں زندگانی کے اب آخری پڑاؤ پہ ہوں
کہاں ہو تم کہ تمہاری مجھے ضرورت ہے
ترے بغیر بھی اک رات جی کے دیکھ لیا
ترے بغیر بھی یہ رات خوبصورت ہے
بدن کے سارے تقاضے تو ہو گئے پورے
مگر ابھی بھی تمہاری مجھے ضرورت ہے
ترے بغیر تو ممکن نہ تھا مرا جینا
ترے بغیر بھی زندہ ہوں مجھ کو حیرت ہے
اسی کی یاد ہے اب نورؔ مشغلہ اپنا
وہ ایک شخص جسے بھولنے کی عادت ہے
یہ آتی جاتی ہوئی سانس بھی اذیت ہے
میں زندگانی کے اب آخری پڑاؤ پہ ہوں
کہاں ہو تم کہ تمہاری مجھے ضرورت ہے
ترے بغیر بھی اک رات جی کے دیکھ لیا
ترے بغیر بھی یہ رات خوبصورت ہے
بدن کے سارے تقاضے تو ہو گئے پورے
مگر ابھی بھی تمہاری مجھے ضرورت ہے
ترے بغیر تو ممکن نہ تھا مرا جینا
ترے بغیر بھی زندہ ہوں مجھ کو حیرت ہے
اسی کی یاد ہے اب نورؔ مشغلہ اپنا
وہ ایک شخص جسے بھولنے کی عادت ہے
92083 viewsghazal • Urdu