ترے بچھڑنے کا دکھ اپنے خاندان کا دکھ
By hina-ambareenFebruary 6, 2024
ترے بچھڑنے کا دکھ اپنے خاندان کا دکھ
ہماری ذات کو ہے سارے کاروان کا دکھ
حضور آپ کو تو علم ہے حقیقت کا
حضور آپ تو سنتے تھے بے زبان کا دکھ
خموش بیٹھ کے اک دوسرے کو سنتے ہیں
ضعیف پیڑ سمجھتا ہے نوجوان کا دکھ
سفر طویل ہے اور زاد راہ بھی کم ہے
لگا ہوا ہے مجھے نم زدہ مکان کا دکھ
سفر میں تو ہے مگر پاؤں تھک رہے ہیں مرے
تھکا رہا ہے مجھے یوں تری تھکان کا دکھ
کنیز خاص بنا دی گئی تھی شہزادی
اسے دیا بھی گیا تو اسی کی شان کا دکھ
غریب کے لیے تو دکھ ہی دکھ ہیں دنیا میں
کبھی مکان کا دکھ ہے کبھی دکان کا دکھ
نہیں ہے کچھ بھی یہاں اس حصار سے باہر
کہیں خموشی کا غم ہے کہیں بیان کا دکھ
ہماری ذات کو ہے سارے کاروان کا دکھ
حضور آپ کو تو علم ہے حقیقت کا
حضور آپ تو سنتے تھے بے زبان کا دکھ
خموش بیٹھ کے اک دوسرے کو سنتے ہیں
ضعیف پیڑ سمجھتا ہے نوجوان کا دکھ
سفر طویل ہے اور زاد راہ بھی کم ہے
لگا ہوا ہے مجھے نم زدہ مکان کا دکھ
سفر میں تو ہے مگر پاؤں تھک رہے ہیں مرے
تھکا رہا ہے مجھے یوں تری تھکان کا دکھ
کنیز خاص بنا دی گئی تھی شہزادی
اسے دیا بھی گیا تو اسی کی شان کا دکھ
غریب کے لیے تو دکھ ہی دکھ ہیں دنیا میں
کبھی مکان کا دکھ ہے کبھی دکان کا دکھ
نہیں ہے کچھ بھی یہاں اس حصار سے باہر
کہیں خموشی کا غم ہے کہیں بیان کا دکھ
94626 viewsghazal • Urdu