تری آواز دھیمی ہو رہی ہے

By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
تری آواز دھیمی ہو رہی ہے
کوئی دیوار اونچی ہو رہی ہے
خدا پر ماتھا پچی ہو رہی ہے
اسی سے ہر ترقی ہو رہی ہے


تری آنکھیں بتاتی ہیں کہیں سے
مری تائید جاری ہو رہی ہے
وہ ہوٹل تھا وہاں پر کون کہتا
سنو جی چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے


بلا کی بھیڑ ہے اس کی گلی میں
طرف داروں کی گنتی ہو رہی ہے
ہوا خوشبو اڑا لائی ہے اس کی
گلوں میں چھینا جھپٹی ہو رہی ہے


گرا ہے آنکھ میں بس ایک ذرہ
مگر تکلیف کتنی ہو رہی ہے
فضا اچھی نہیں ہے بزم دل کی
غموں میں کانا پھوسی ہو رہی ہے


کوئی چلتا نہیں راہ خدا پر
زبانی جی حضوری ہو رہی ہے
72823 viewsghazalUrdu