تھکے تو قافلہ واپس گھروں کو موڑ لیا
By haris-bilalFebruary 6, 2024
تھکے تو قافلہ واپس گھروں کو موڑ لیا
سفر سے توڑ کے ناطہ شجر سے جوڑ لیا
کبھی جو روکنا چاہی زمین کی گردش
تری کلائی کو ہم نے ذرا مروڑ لیا
غبار جو مرے پیچھے تھکا تھکا سا اٹھا
سمجھ رہا تھا کہ میں نے زیادہ دوڑ لیا
گلی میں چلتے ہوئے کھینچ لی تری تصویر
گزرنے والے نے پتا شجر سے توڑ لیا
پھٹے لباس میں کچھ عیب بڑھ گئے میرے
پھر آسمان ہی اپنے بدن پہ اوڑھ لیا
ذرا سحر کا الارم جو دیر سے بولا
قریب سوئی ہوئی صبح کو جھنجھوڑ لیا
یہ آنکھ خواب سے خالی نہیں ہوئی حارثؔ
ٹپکتے دامن تر کو بڑا نچوڑ لیا
سفر سے توڑ کے ناطہ شجر سے جوڑ لیا
کبھی جو روکنا چاہی زمین کی گردش
تری کلائی کو ہم نے ذرا مروڑ لیا
غبار جو مرے پیچھے تھکا تھکا سا اٹھا
سمجھ رہا تھا کہ میں نے زیادہ دوڑ لیا
گلی میں چلتے ہوئے کھینچ لی تری تصویر
گزرنے والے نے پتا شجر سے توڑ لیا
پھٹے لباس میں کچھ عیب بڑھ گئے میرے
پھر آسمان ہی اپنے بدن پہ اوڑھ لیا
ذرا سحر کا الارم جو دیر سے بولا
قریب سوئی ہوئی صبح کو جھنجھوڑ لیا
یہ آنکھ خواب سے خالی نہیں ہوئی حارثؔ
ٹپکتے دامن تر کو بڑا نچوڑ لیا
43079 viewsghazal • Urdu