تمہیں جو کہہ نہ پایا ہے غزل میں میں سناتا ہوں
By abhishek-jainFebruary 5, 2024
تمہیں جو کہہ نہ پایا ہے غزل میں میں سناتا ہوں
جہاں بھر سے چھپاتا ہوں وہی تم کو بتاتا ہوں
محبت ہے مجھے کتنی تمہیں کیسے بتاؤں میں
تمہیں کو یاد کرتا ہوں سبھی کو بھول جاتا ہوں
جسے میراؔ نے گایا ہے وہی اب یاد آتا ہے
اسی کو ہی تو محفل میں سبھی کو میں سناتا ہوں
چرائے تھے کبھی میں نے جو پیسے جیب سے جن کے
انہیں کے واسطے ہی میں یہاں پیسہ کماتا ہوں
جہاں بھر سے چھپاتا ہوں وہی تم کو بتاتا ہوں
محبت ہے مجھے کتنی تمہیں کیسے بتاؤں میں
تمہیں کو یاد کرتا ہوں سبھی کو بھول جاتا ہوں
جسے میراؔ نے گایا ہے وہی اب یاد آتا ہے
اسی کو ہی تو محفل میں سبھی کو میں سناتا ہوں
چرائے تھے کبھی میں نے جو پیسے جیب سے جن کے
انہیں کے واسطے ہی میں یہاں پیسہ کماتا ہوں
54335 viewsghazal • Urdu