اداسیوں کا مسلسل نزول اب بھی ہے

By wasim-nadirJanuary 5, 2024
اداسیوں کا مسلسل نزول اب بھی ہے
ہر ایک چیز پہ کمرے کی دھول اب بھی ہے
الجھ کے رہ گئے رومال اپنے جس میں کبھی
وفا کی راہ میں کیا وہ ببول اب بھی ہے


وہ عشق والوں کو صحرا میں چھوڑ آتے تھے
تمہارے شہر میں کیا یہ اصول اب بھی ہے
تمہارے نام کی خوشیاں تو خیر مل نہ سکیں
تمہارے نام کا ہر غم قبول اب بھی ہے


کبھی کبھار مہک اٹھنے کا سبب نادرؔ
وفا کی شاخ پہ اک آدھ پھول اب بھی ہے
35535 viewsghazalUrdu