اداسیوں کے سوا اس مکان میں کیا ہے
By wasim-nadirJanuary 5, 2024
اداسیوں کے سوا اس مکان میں کیا ہے
تمہارے بعد مری داستان میں کیا ہے
تم اس لئے بھی مخالف رہے ہواؤں کے
تمہیں پتہ ہی نہیں آسمان میں کیا ہے
نگاہ ٹکتی نہیں کیوں کسی بھی چہرے پر
خدا ہی جانے تمہارے گمان میں کیا ہے
زمیں سے اٹھ کے خلا میں کہیں بھٹک جانا
ضرورتوں کے علاوہ اڑان میں کیا ہے
بس اک جنون سمندر میں غرق ہونے کا
نہیں تو اور ندی کے اپھان میں کیا ہے
تمام عمر جلا ہوں تپش میں سورج کی
یہ مجھ سے پوچھے کوئی سائبان میں کیا ہے
تمہارے بعد مری داستان میں کیا ہے
تم اس لئے بھی مخالف رہے ہواؤں کے
تمہیں پتہ ہی نہیں آسمان میں کیا ہے
نگاہ ٹکتی نہیں کیوں کسی بھی چہرے پر
خدا ہی جانے تمہارے گمان میں کیا ہے
زمیں سے اٹھ کے خلا میں کہیں بھٹک جانا
ضرورتوں کے علاوہ اڑان میں کیا ہے
بس اک جنون سمندر میں غرق ہونے کا
نہیں تو اور ندی کے اپھان میں کیا ہے
تمام عمر جلا ہوں تپش میں سورج کی
یہ مجھ سے پوچھے کوئی سائبان میں کیا ہے
27208 viewsghazal • Urdu