اڑے ہوش بہکی نظر نشہ چھایا

By birj-lal-raanaFebruary 26, 2024
اڑے ہوش بہکی نظر نشہ چھایا
وہ آئے کہ جام مئے ناب آیا
محبت ہے مفلس کی تقصیر شاید
اسے لاکھ پردوں میں عریاں ہی پایا


مصیبت کا احسان بھولوں تو کیوں کر
مصیبت پڑی تو خدا یاد آیا
خلش سے ہے دل میں تڑپ سی ہے جاں میں
وہ آئے کہ جینے کا انداز آیا


یہ ہے قصۂ زندگی کا خلاصہ
جو پایا وہ کھویا جو کھویا نہ پایا
پرستش جو کی تو خودی کی پرستش
جھکایا تو سر اپنے آگے جھکایا


شکستہ ہوا دل تو کچھ اور نکھرا
شہاب اور بھی ٹوٹ کر جگمگایا
نہ سمجھے خودی کو نہ سمجھے خدا کو
نہ جینا ہی آیا نہ مرنا ہی آیا


کئی بار پھونکا جسے بجلیوں نے
اسی شاخ پر آشیانہ بنایا
جہاں میں نہ ہنستے بنی ہے نہ روتے
خوشی راس آئی نہ غم راس آیا


جوانی نے جب ساز ہستی کو چھیڑا
زمیں گنگنائی فلک گنگنایا
زمانے کے دل کی صدا بن کے رعناؔ
زمانے کو میرے سخن نے جگایا


87194 viewsghazalUrdu