اجڑے ہوئے رستے ہم

By hina-ambareenFebruary 6, 2024
اجڑے ہوئے رستے ہم
گزرے ہوئے لمحے ہم
رنگوں سے مزین تھے
چھو لینے سے بکھرے ہم


نابود مکمل کر
ٹوٹے نہیں چٹخے ہم
سیراب ہوئی دنیا
اک بوند کو ترسے ہم


دے دیں اسے غیروں کو
دنیا ترے صدقے ہم
اپنی بڑی قیمت تھی
کتنے ہوئے سستے ہم


اس آنکھ میں گھر ہوتا
اس دل میں دھڑکتے ہم
ہم بچھڑی ہوئی بانہیں
بھولے ہوئے لمحے ہم


لپٹی ہوئی فکریں ہیں
کہتے نہیں دکھڑے ہم
حجت بھی اگر کرتے
کس شخص کے کرتے ہم


اے یاد چل آہستہ
گونگے ہیں نہ بہرے ہم
59995 viewsghazalUrdu