عمر بھر پیکر احساس میں ڈھالے نہ گئے

By ahmad-ayazFebruary 24, 2025
عمر بھر پیکر احساس میں ڈھالے نہ گئے
ہم وہ وحشی تھے جو خود سے بھی سنبھالے نہ گئے
پتھروں کو بھی کہاں سہل تھا پتھر ہونا
یہ بھی حساس تھے جب تک کی اچھالے نہ گئے


کچھ ہواؤں میں تپش تھی سو بدن جلنے لگا
اور پھر ایسا جلا جسم کے چھالے نہ گئے
آئنہ ساز تھا وہ ڈھالتا تھا آئینے
ایسا ڈھالا کہ مرے عکس نکالے نہ گئے


لوگ خوش ہوتے رہے دیکھ حسیں موجوں کو
ہم سمندر تھے کبھی دل سے کھنگالے نہ گئے
رات بھر ہم بھی سفر کرتے رہے چاند کے ساتھ
داغ کچھ ہم پہ ابھر آئے نکالے نہ گئے


39329 viewsghazalUrdu