اس مسافر کے ہرے لفظ اثر دار ہوئے
By asim-qamarFebruary 25, 2024
اس مسافر کے ہرے لفظ اثر دار ہوئے
میرے مرجھائے ہوئے پیڑ ثمر بار ہوئے
میں سمجھتا تھا بچھڑ جانا حد آخر ہے
پھر تری یاد کے آسیب نمودار ہوئے
دوست دستک تو کواڑوں پہ سنی جاتی ہیں
اور ہمیں ایک صدی ہو گئی دیوار ہوئے
ورنہ ہم میں بھی خرابی کی کوئی بات نہ تھی
اک مگر تیری تمنا کے گنہ گار ہوئے
موسم عشق بھی آیا تھا زمین دل پر
پر وہی بات کے بدلاؤ لگاتار ہوئے
ہم نے فرقوں کی صلیبوں پہ چڑھائے قرآن
اور خدا چھوڑ کے بندوں کے طرف دار ہوئے
میرے مرجھائے ہوئے پیڑ ثمر بار ہوئے
میں سمجھتا تھا بچھڑ جانا حد آخر ہے
پھر تری یاد کے آسیب نمودار ہوئے
دوست دستک تو کواڑوں پہ سنی جاتی ہیں
اور ہمیں ایک صدی ہو گئی دیوار ہوئے
ورنہ ہم میں بھی خرابی کی کوئی بات نہ تھی
اک مگر تیری تمنا کے گنہ گار ہوئے
موسم عشق بھی آیا تھا زمین دل پر
پر وہی بات کے بدلاؤ لگاتار ہوئے
ہم نے فرقوں کی صلیبوں پہ چڑھائے قرآن
اور خدا چھوڑ کے بندوں کے طرف دار ہوئے
46194 viewsghazal • Urdu