اسی صحرا کے ہم بھی ہیں جہاں دیوانے جاتے ہیں

By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
اسی صحرا کے ہم بھی ہیں جہاں دیوانے جاتے ہیں
حقیقت کے تعاقب میں جہاں افسانے جاتے ہیں
در و دیوار والے تم درون خانہ والے ہم
سو تم مسجد کی جانب جاؤ ہم میخانے جاتے ہیں


انہیں یہ فکر ان کے شہر کی توسیع کیسے ہو
مجھے تشویش میرے ہاتھ سے ویرانے جاتے ہیں
ہمارا دشت کیا سرسبز ہے آب ندامت سے
کہ سارے اہل شہر اکثر وہیں پچھتانے جاتے ہیں


وہ مٹی کا بدن ہے یا کوئی جادو کی پڑیا ہے
اسی لمحے نہیں ہوتا جب اس کو پانے جاتے ہیں
وہیں شاید کوئی اگلی شناسائی کی محفل ہو
تو چل دیتے ہیں ہم بھی جس طرف بیگانے جاتے ہیں


اندھیری رات تھی بارش تھی اور مسجد کا دروازہ
تو دیکھا فرحت احساسؔ ایک دم مستانے جاتے ہیں
97042 viewsghazalUrdu