اس کو اک بار روشنی میں دیکھ
By fahmi-badayuniFebruary 6, 2024
اس کو اک بار روشنی میں دیکھ
اور تا عمر تیرگی میں دیکھ
کیا نہیں ہوتا مفلسی میں دیکھ
میر و غالب کی شاعری میں دیکھ
دل ربا ہے یہ کوشش ناکام
اس کے چہرے کو پھر کسی میں دیکھ
اس کا ہم شکل کوئی ہے ہی نہیں
اس کا انداز بس اسی میں دیکھ
کوئی کونا امیر ہو شاید
غور سے صحن مفلسی میں دیکھ
تیرے کوچے کی خاک کا سکہ
چل رہا ہے مری گلی میں دیکھ
اس کی محفل سجی ہوئی ہے ابھی
وقت ٹھہری ہوئی گھڑی میں دیکھ
اور تا عمر تیرگی میں دیکھ
کیا نہیں ہوتا مفلسی میں دیکھ
میر و غالب کی شاعری میں دیکھ
دل ربا ہے یہ کوشش ناکام
اس کے چہرے کو پھر کسی میں دیکھ
اس کا ہم شکل کوئی ہے ہی نہیں
اس کا انداز بس اسی میں دیکھ
کوئی کونا امیر ہو شاید
غور سے صحن مفلسی میں دیکھ
تیرے کوچے کی خاک کا سکہ
چل رہا ہے مری گلی میں دیکھ
اس کی محفل سجی ہوئی ہے ابھی
وقت ٹھہری ہوئی گھڑی میں دیکھ
23633 viewsghazal • Urdu