وہی بلندی سے نیچے ہمیں گراتے ہیں
By chand-kakralviJanuary 19, 2024
وہی بلندی سے نیچے ہمیں گراتے ہیں
وہ جن کے واسطے ہم سیڑھیاں بناتے ہیں
بکھرنے لگتے ہیں ہم کو سمیٹنے والے
کبھی کبھار تو ہم اتنا ٹوٹ جاتے ہیں
سکون ملتا ہے دل کو اسی وظیفے سے
ہم اپنے شعر اکیلے میں گنگناتے ہیں
انہیں سند نہیں ملتی کبھی محبت میں
جو سر بچاتے ہیں اور انگلیاں کٹاتے ہیں
اب اور اس سے زیادہ بھی ربط کیا ہوگا
وہ دھوپ میں ہوں پسینے میں ہم نہاتے ہیں
رسائی دھوپ کی ہوتی کہاں ہے کمرے میں
ہمارے کپڑے بدن پر ہی سوکھ جاتے ہیں
وہ جن کے واسطے ہم سیڑھیاں بناتے ہیں
بکھرنے لگتے ہیں ہم کو سمیٹنے والے
کبھی کبھار تو ہم اتنا ٹوٹ جاتے ہیں
سکون ملتا ہے دل کو اسی وظیفے سے
ہم اپنے شعر اکیلے میں گنگناتے ہیں
انہیں سند نہیں ملتی کبھی محبت میں
جو سر بچاتے ہیں اور انگلیاں کٹاتے ہیں
اب اور اس سے زیادہ بھی ربط کیا ہوگا
وہ دھوپ میں ہوں پسینے میں ہم نہاتے ہیں
رسائی دھوپ کی ہوتی کہاں ہے کمرے میں
ہمارے کپڑے بدن پر ہی سوکھ جاتے ہیں
73460 viewsghazal • Urdu