وجہ خلش ہے باعث آسودگی بھی ہے

By basheer-ahmad-basheerJanuary 19, 2024
وجہ خلش ہے باعث آسودگی بھی ہے
یہ بعد جس میں لذت ہمسائیگی بھی ہے
کچھ دشت کے بگولے بھی ہیں باعث فشار
کچھ خود مزاج خاک میں آوارگی بھی ہے


بستی کوئی عجیب ہے یہ اس جگہ کے لوگ
خندہ بہ لب ہیں چہروں پہ آزردگی بھی ہے
ویسے بھی کچھ یہاں سے طبیعت ہے اب اچاٹ
یوں دل کو اس دیار سے وابستگی بھی ہے


اس اپنی گوشہ گیری کے ہیں اور بھی سبب
اک وجہ پست ہمتوں کی خواجگی بھی ہے
وہ آتشیں کرہ ہے یہ دل جس کے ہر طرف
تاریکیٔ خلا بھی ہے یخ بستگی بھی ہے


پھر مجھ سے قوم کرتی ہے کیوں معجزے طلب
جب طعن سحر و تہمت دیوانگی بھی ہے
موجودگی تری متعین نہ ہو سکی
اے تو کہ ہر جگہ تری موجودگی بھی ہے


کیا کیجئے بشیرؔ شعور انا کے ساتھ
حکم سجود و عاجزی و بندگی بھی ہے
33755 viewsghazalUrdu