وغا میں کوئی بھی ایسا عدو نہیں آیا

By azwar-shiraziFebruary 26, 2024
وغا میں کوئی بھی ایسا عدو نہیں آیا
ہماری تیغ پہ جس کا لہو نہیں آیا
یہ مت سمجھ کہ مجھے جاں عزیز ہے اپنی
اگر کبھی تہ خنجر گلو نہیں آیا


ہماری پرسش احوال کے لیے اکثر
ترا خیال تو آیا ہے تو نہیں آیا
وہ ناتواں تھا کہ تیغ عدو کے چلنے پر
مرے وجود سے باہر لہو نہیں آیا


میں ایسا پیڑ ہوں جس پر بہار ہو کہ خزاں
کسی بھی دور میں بار نمو نہیں آیا
وہ ناامید ہوا ہوں خدا کے ہوتے ہوئے
مری زبان پہ لا تقنطو نہیں آیا


محاذ عشق سے ناکام آ گیا لیکن
خدا کا شکر کہ بے آبرو نہیں آیا
کہیں نہ پھر سے اماوس نے گھیر رکھا ہو
جو چاند آج سر آب جو نہیں آیا


ہاں وہ طبیب تو آیا تھا نیشتر کے لیے
برائے زحمت کار رفو نہیں آیا
مجھے پتہ ہے محبت ہے کیا ہوس ہے کیا
سو اس کو دیکھ تو آیا ہوں چھو نہیں آیا


وہ عکس مجھ کو مکمل دکھائی دے کیسے
جو آئنے میں کبھی ہو بہو نہیں آیا
65378 viewsghazalUrdu