وہ دن بھی آئے کہ ہم یہ عجیب کھانا کھائیں

By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
وہ دن بھی آئے کہ ہم یہ عجیب کھانا کھائیں
امیر کھانا پکائیں غریب کھانا کھائیں
وہ شب کہاں کہ کھلے اس بدن کا دستر خوان
اور اس کے ساتھ میں ہم خوش نصیب کھانا کھائیں


ہم اہل عشق دکان ہوس پہ جائیں نہ کیوں
جب اس کی دعوت دل میں رقیب کھانا کھائیں
تمام شہر ہے فاقے سے اور غضب دیکھو
امیر شہر اور اس کے حبیب کھانا کھائیں


کوئی تو آئے جو نقاد کا ولیمہ کرائے
کہ ایک دن تو یہ شاعر ادیب کھانا کھائیں
یہی ہے عشق کہ جب گل کریں شکم سیری
تو اس کے دوسرے دن عندلیب کھانا کھائیں


71385 viewsghazalUrdu