وہ حادثہ بھی ہوا میری زندگانی میں

By anaam-damohiFebruary 5, 2024
وہ حادثہ بھی ہوا میری زندگانی میں
جسے پڑھا تھا بڑے شوق سے کہانی میں
دکھائی جب بھی دیا چاند بہتے پانی میں
لگا کہ حسن ترا آ گیا روانی میں


اسے خبر ہی نہیں شام کو جو ہونا ہے
یہ آفتاب ابھی چور ہے جوانی میں
یوں ہی سنورتی نہیں ہیں گلوں کی تقدیریں
لہو نچوڑنا پڑتا ہے باغبانی میں


تمام عمر میں اس کو تلاش کرتا رہا
وہ ایک شخص جو تھا ہی نہیں کہانی میں
کبھی کسی کے نہ مہمان ہم ہوئے انعامؔ
تمام عمر گزاری ہے میزبانی میں


35389 viewsghazalUrdu