وہ جو کاسہ لیے ہر در پہ کھڑا ہوتا ہے

By wasim-nadirJanuary 5, 2024
وہ جو کاسہ لیے ہر در پہ کھڑا ہوتا ہے
میں اسے روز بتاتا ہوں خدا ہوتا ہے
کتنے دروازوں پہ جھکتا ہے تمہیں کیا معلوم
وہ جو اک شخص کسی گھر کا بڑا ہوتا ہے


وقت پر کام نہ آ پائے تو بھائی کیسا
گھر میں رکھی ہوئی تلوار سے کیا ہوتا ہے
اس نے تعریف کے پتھر سے کیا ہے زخمی
یہ نشانہ بڑی مشکل سے خطا ہوتا ہے


عشق میں سر کبھی جھکتا ہی نہیں ہے نادرؔ
یہ وہ سجدہ ہے جو آنکھوں سے ادا ہوتا ہے
23578 viewsghazalUrdu