وہ تصور میں تو آتا ہے چلا جاتا ہے

By aalam-nizamiJanuary 18, 2024
وہ تصور میں تو آتا ہے چلا جاتا ہے
دھڑکنیں دل کی بڑھاتا ہے چلا جاتا ہے
ہونے لگتا ہے مجھے جب بھی تکبر کا گماں
کوئی آئینہ دکھاتا ہے چلا جاتا ہے


کوئی درویش مجھے روز سوالی بن کر
خواب غفلت سے جگاتا ہے چلا جاتا ہے
کون ہے دوست یہاں کون ہمارا دشمن
گردش وقت بتاتا ہے چلا جاتا ہے


میری تربت پہ سر شام دعاؤں کا چراغ
کوئی اشکوں سے جلاتا ہے چلا جاتا ہے
بیٹھ جاتا ہوں رہ عشق میں تھک کر تو جنوں
منزل شوق بڑھاتا ہے چلا جاتا ہے


وقت آتا ہے دبے پاؤں ہمیشہ عالمؔ
سب کی اوقات بتاتا ہے چلا جاتا ہے
86653 viewsghazalUrdu