یاد بھی اس کی خواب کی سی ہے
By aamir-ataFebruary 25, 2024
یاد بھی اس کی خواب کی سی ہے
ایک لڑکی حجاب کی سی ہے
چومتا ہوں ثواب جان کے میں
تو مقدس کتاب کی سی ہے
جو ملی ہے ثواب کی خاطر
زیست وہ بھی عذاب کی سی ہے
اس میں خوشبو رہی نہ رنگ رہا
اب وہ سوکھے گلاب کی سی ہے
ذکر تیرا عطاؔ کے شعر میں ہے
تو غزل پر شباب کی سی ہے
ایک لڑکی حجاب کی سی ہے
چومتا ہوں ثواب جان کے میں
تو مقدس کتاب کی سی ہے
جو ملی ہے ثواب کی خاطر
زیست وہ بھی عذاب کی سی ہے
اس میں خوشبو رہی نہ رنگ رہا
اب وہ سوکھے گلاب کی سی ہے
ذکر تیرا عطاؔ کے شعر میں ہے
تو غزل پر شباب کی سی ہے
72752 viewsghazal • Urdu