یاد تمہاری آئی ہے برساتوں میں

By irfan-aazmiFebruary 6, 2024
یاد تمہاری آئی ہے برساتوں میں
پھول کھلے زخموں کے بھیگی راتوں میں
جس میں کوئی خون نہ ہو ارمانوں کا
ایسی کوئی رات نہیں ہے راتوں میں


چومے گا اک عالم رہتی دنیا تک
سنگ جو تم نے بھیجے ہیں سوغاتوں میں
ان کا لہجہ ان کی باتیں کیا کہیے
وقت گزر جاتا ہے باتوں باتوں میں


شہروں کی رنگینی راس نہ آئے گی
ساتھی میرا چھوٹ گیا دیہاتوں میں
چادر میں منہ ڈھانکے یوںہی لیٹے ہیں
نیند کہاں آئی ہے اجڑی راتوں میں


ذات کے اندر کیوں میرا دم گھٹتا ہے
زندہ ہیں سب اپنی اپنی ذاتوں میں
دولت میرے پاس نہیں لیکن عرفانؔ
میں نے خود کو بانٹ دیا خیراتوں میں


87266 viewsghazalUrdu