یہاں جنازوں میں قاتل شریک ہوتے ہیں
By haris-bilalFebruary 6, 2024
یہاں جنازوں میں قاتل شریک ہوتے ہیں
سو دین و دنیا الگ کر کے لوگ روتے ہیں
طویل بجھتے چراغوں کا سلسلہ ہے جسے
ہم اپنے ضبط کی دیوار میں پروتے ہیں
کھرچ رہے ہیں وہ کپڑوں سے خون کے چھینٹے
اگرچہ داغ تو آئینے پر بھی ہوتے ہیں
جنوں کمایا ہے اس مصلحت کی دنیا میں
اور اپنی نسل کی گاڑی میں خواب جوتے ہیں
بیانیہ تو سمندر بھی یہ بناتا ہے
سوار ہوتے ہیں جو کشتیاں ڈبوتے ہیں
اسی طرح سے پنپتے ہیں اہل حق حارثؔ
ہم اپنے خون کے قطرے زمیں میں بوتے ہیں
سو دین و دنیا الگ کر کے لوگ روتے ہیں
طویل بجھتے چراغوں کا سلسلہ ہے جسے
ہم اپنے ضبط کی دیوار میں پروتے ہیں
کھرچ رہے ہیں وہ کپڑوں سے خون کے چھینٹے
اگرچہ داغ تو آئینے پر بھی ہوتے ہیں
جنوں کمایا ہے اس مصلحت کی دنیا میں
اور اپنی نسل کی گاڑی میں خواب جوتے ہیں
بیانیہ تو سمندر بھی یہ بناتا ہے
سوار ہوتے ہیں جو کشتیاں ڈبوتے ہیں
اسی طرح سے پنپتے ہیں اہل حق حارثؔ
ہم اپنے خون کے قطرے زمیں میں بوتے ہیں
19564 viewsghazal • Urdu