یہاں یوں ہی نہیں پہنچا ہوں میں

By fahmi-badayuniFebruary 6, 2024
یہاں یوں ہی نہیں پہنچا ہوں میں
مسلسل رات دن دوڑا ہوں میں
تری زنجیر کا حصہ ہوں میں
رہا ہو بھی نہیں سکتا ہوں میں


تمہاری اوٹ میں جتنا ہوں میں
بس اتنا ہی نظر آتا ہوں میں
تمہارے سامنے بیٹھا ہوں میں
یہی تو سوچ کر زندہ ہوں میں


ڈراتا ہے خدا سے جب کوئی
خدا کے پیچھے چھپ جاتا ہوں میں
پریشاں دھوپ کرتی ہے مجھے
شکایت چاند سے کرتا ہوں میں


بہت کچھ کہنا پڑتا ہو جہاں
وہاں پر کچھ نہیں کہتا ہوں میں
منا لے گی اسے معلوم ہے
ابھی سچ مچ نہیں روٹھا ہوں میں


77475 viewsghazalUrdu