یاس و حسرت کی ضرب کاری ہے
By irfan-aazmiFebruary 6, 2024
یاس و حسرت کی ضرب کاری ہے
ہر تبسم میں بے قراری ہے
وقت سے کوئی بچ نہیں سکتا
وقت سب سے بڑا شکاری ہے
اک محبت پہ زعم تھا ہم کو
ان دنوں یہ بھی کاروباری ہے
ضبط کم ہے نہ کم غم دوراں
بار کے ساتھ بردباری ہے
عشق اپنا مزاج رکھتا ہے
بے خودی ہے نہ ہوشیاری ہے
لینے والا یہاں تونگر ہے
دینے والا یہاں بھکاری ہے
دھول اڑنے لگی ہے آنکھوں میں
شاید اب آنسوؤں کی باری ہے
تنگ دستی میں آپ کی یادیں
قحط میں جیسے بوند باری ہے
کس نے توڑا ہے دل ترا عرفانؔ
کیوں طبیعت میں انکساری ہے
ہر تبسم میں بے قراری ہے
وقت سے کوئی بچ نہیں سکتا
وقت سب سے بڑا شکاری ہے
اک محبت پہ زعم تھا ہم کو
ان دنوں یہ بھی کاروباری ہے
ضبط کم ہے نہ کم غم دوراں
بار کے ساتھ بردباری ہے
عشق اپنا مزاج رکھتا ہے
بے خودی ہے نہ ہوشیاری ہے
لینے والا یہاں تونگر ہے
دینے والا یہاں بھکاری ہے
دھول اڑنے لگی ہے آنکھوں میں
شاید اب آنسوؤں کی باری ہے
تنگ دستی میں آپ کی یادیں
قحط میں جیسے بوند باری ہے
کس نے توڑا ہے دل ترا عرفانؔ
کیوں طبیعت میں انکساری ہے
52688 viewsghazal • Urdu