یہ الگ بات کہ فرصت بھی نہیں ملتی ہے
By aalam-nizamiJanuary 18, 2024
یہ الگ بات کہ فرصت بھی نہیں ملتی ہے
خود سے مل کر ہمیں راحت بھی نہیں ملتی ہے
ہم تو کرنا بھی نہیں چاہتے دل کا سودا
اور مناسب ہمیں قیمت بھی نہیں ملتی ہے
عشق وہ جرم ہے اس جرم کو کرنے والو
اس کے مجرم کو ضمانت بھی نہیں ملتی ہے
دوڑتے بھی نہیں شہرت کے ہم آگے پیچھے
اور آسانی سے شہرت بھی نہیں ملتی ہے
ہر جگہ لوگ مہذب بھی نہیں ہوتے ہیں
ہر جگہ دوستو عزت بھی نہیں ملتی ہے
ہم نے مانا کہ برے آپ نہیں ہیں لیکن
آپ میں کوئی شرافت بھی نہیں ملتی ہے
عیش بیٹے کی کمائی سے بہو کرتی ہے
ماں کو اب دودھ کی اجرت بھی نہیں ملتی ہے
ہر کسی سے نہیں رکھتا ہوں میں رشتہ عالمؔ
ہر کسی سے یہ طبیعت بھی نہیں ملتی ہے
خود سے مل کر ہمیں راحت بھی نہیں ملتی ہے
ہم تو کرنا بھی نہیں چاہتے دل کا سودا
اور مناسب ہمیں قیمت بھی نہیں ملتی ہے
عشق وہ جرم ہے اس جرم کو کرنے والو
اس کے مجرم کو ضمانت بھی نہیں ملتی ہے
دوڑتے بھی نہیں شہرت کے ہم آگے پیچھے
اور آسانی سے شہرت بھی نہیں ملتی ہے
ہر جگہ لوگ مہذب بھی نہیں ہوتے ہیں
ہر جگہ دوستو عزت بھی نہیں ملتی ہے
ہم نے مانا کہ برے آپ نہیں ہیں لیکن
آپ میں کوئی شرافت بھی نہیں ملتی ہے
عیش بیٹے کی کمائی سے بہو کرتی ہے
ماں کو اب دودھ کی اجرت بھی نہیں ملتی ہے
ہر کسی سے نہیں رکھتا ہوں میں رشتہ عالمؔ
ہر کسی سے یہ طبیعت بھی نہیں ملتی ہے
21916 viewsghazal • Urdu