یہ حسن آیا ہے جب سے ہماری بستی میں
By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
یہ حسن آیا ہے جب سے ہماری بستی میں
ہر ایک عقل نظر آ رہی ہے مستی میں
تبھی تو میرے جنوں پر دبش نہیں آتی
میں شہر میں بھی ہوں صحرا کی سر پرستی میں
یہ میری فتح کا اعلان کیسے ہونے لگا
تمام عمر تو گزری ہے خود شکستی میں
ہم اپنے چاک پہ مصروف رہنے لگتے ہیں
عجب کرامتیں ہوتی ہیں تنگ دستی میں
ہوائے راہ گزر پر فریفتہ بھی ہے دل
سکوں بھی ڈھونڈھتا رہتا ہے گھر گرہستی میں
سنا ہے دشت کو واپس گئے جناب احساسؔ
ملازمت سے سبک دوش ہو کے بستی میں
ہر ایک عقل نظر آ رہی ہے مستی میں
تبھی تو میرے جنوں پر دبش نہیں آتی
میں شہر میں بھی ہوں صحرا کی سر پرستی میں
یہ میری فتح کا اعلان کیسے ہونے لگا
تمام عمر تو گزری ہے خود شکستی میں
ہم اپنے چاک پہ مصروف رہنے لگتے ہیں
عجب کرامتیں ہوتی ہیں تنگ دستی میں
ہوائے راہ گزر پر فریفتہ بھی ہے دل
سکوں بھی ڈھونڈھتا رہتا ہے گھر گرہستی میں
سنا ہے دشت کو واپس گئے جناب احساسؔ
ملازمت سے سبک دوش ہو کے بستی میں
56364 viewsghazal • Urdu