یہ عشق وہ ہے کہ جس کا نشہ نہ اترے گا
By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
یہ عشق وہ ہے کہ جس کا نشہ نہ اترے گا
اس آسمان سے اب یہ خدا نہ اترے گا
یہ رنگ گریہ رہے گا جو تیرے کوچے میں
ادھر سے کوئی بھی ہنستا ہوا نہ گزرے گا
جو تیرے پاؤں فلک پر دھرے رہے یوں ہی
زمیں پہ سبزۂ رنگ حنا نہ اترے گا
لگا دیا جو اسے میرے خون ناحق نے
زبان شہر سے اب یہ مزہ نہ اترے گا
اتار لائے کسی بھی غبار راہ کا عکس
اب اس قدر بھی مرا آئنہ نہ اترے گا
ندی پہ مہر لگا دی شناوری نے مری
اس آب خاص میں اب دوسرا نہ اترے گا
لذیذ بھی ہے رواں بھی بہت مگر احساسؔ
مرے گلے سے ترا ذائقہ نہ اترے گا
اس آسمان سے اب یہ خدا نہ اترے گا
یہ رنگ گریہ رہے گا جو تیرے کوچے میں
ادھر سے کوئی بھی ہنستا ہوا نہ گزرے گا
جو تیرے پاؤں فلک پر دھرے رہے یوں ہی
زمیں پہ سبزۂ رنگ حنا نہ اترے گا
لگا دیا جو اسے میرے خون ناحق نے
زبان شہر سے اب یہ مزہ نہ اترے گا
اتار لائے کسی بھی غبار راہ کا عکس
اب اس قدر بھی مرا آئنہ نہ اترے گا
ندی پہ مہر لگا دی شناوری نے مری
اس آب خاص میں اب دوسرا نہ اترے گا
لذیذ بھی ہے رواں بھی بہت مگر احساسؔ
مرے گلے سے ترا ذائقہ نہ اترے گا
54952 viewsghazal • Urdu