یہ جو باہر خدا سے ڈر رہے ہیں
By fahmi-badayuniFebruary 6, 2024
یہ جو باہر خدا سے ڈر رہے ہیں
بہت کچھ دل کے اندر کر رہے ہیں
ابھی دیکھا ہے کچھ ٹی وی میں شاید
مرے بچے مجھی سے ڈر رہے ہیں
ارادہ ہے مرا گھر بیچنے کا
پڑوسی خوب خاطر کر رہے ہیں
یہاں پر کوئی دریا دل نہیں ہے
سب اپنے گھر کا پانی بھر رہے ہیں
تری خوشبو سے جو واقف نہیں ہیں
وہ پھولوں سے گزارہ کر رہے ہیں
نکل آئے تو پھر رونے نہ دیں گے
ہم اپنے آنسوؤں سے ڈر رہے ہیں
ٹہلتے پھر رہے ہیں سارے گھر میں
تری خالی جگہ کو بھر رہے ہیں
بہت کچھ دل کے اندر کر رہے ہیں
ابھی دیکھا ہے کچھ ٹی وی میں شاید
مرے بچے مجھی سے ڈر رہے ہیں
ارادہ ہے مرا گھر بیچنے کا
پڑوسی خوب خاطر کر رہے ہیں
یہاں پر کوئی دریا دل نہیں ہے
سب اپنے گھر کا پانی بھر رہے ہیں
تری خوشبو سے جو واقف نہیں ہیں
وہ پھولوں سے گزارہ کر رہے ہیں
نکل آئے تو پھر رونے نہ دیں گے
ہم اپنے آنسوؤں سے ڈر رہے ہیں
ٹہلتے پھر رہے ہیں سارے گھر میں
تری خالی جگہ کو بھر رہے ہیں
65233 viewsghazal • Urdu