یہ جو ویرانے میں بیٹھا ہوا ہے
By fahmi-badayuniFebruary 6, 2024
یہ جو ویرانے میں بیٹھا ہوا ہے
کسی آواز سے بچھڑا ہوا ہے
تلافی اس کی تنہائی سے ہوگی
تری محفل میں جو گھاٹا ہوا ہے
کہاں تک مٹی سمجھوتے کرائے
ہمارا چاک سے جھگڑا ہوا ہے
لچک تھی ہی نہیں گردن میں اپنی
بڑی مشکل سے اک سجدہ ہوا ہے
مجھے پینا ہے جس کوزے میں پانی
ابھی وہ چاک پہ رکھا ہوا ہے
سجاتا رہتا ہوں جو شاعری میں
وہ سب کچھ آپ کا پھینکا ہوا ہے
اندھیری رات ہے اور ایک جگنو
فضا میں دور تک پھیلا ہوا ہے
پلے گی کس طرح نسل مصنف
کتابوں میں یہی لکھا ہوا ہے
کسی آواز سے بچھڑا ہوا ہے
تلافی اس کی تنہائی سے ہوگی
تری محفل میں جو گھاٹا ہوا ہے
کہاں تک مٹی سمجھوتے کرائے
ہمارا چاک سے جھگڑا ہوا ہے
لچک تھی ہی نہیں گردن میں اپنی
بڑی مشکل سے اک سجدہ ہوا ہے
مجھے پینا ہے جس کوزے میں پانی
ابھی وہ چاک پہ رکھا ہوا ہے
سجاتا رہتا ہوں جو شاعری میں
وہ سب کچھ آپ کا پھینکا ہوا ہے
اندھیری رات ہے اور ایک جگنو
فضا میں دور تک پھیلا ہوا ہے
پلے گی کس طرح نسل مصنف
کتابوں میں یہی لکھا ہوا ہے
85634 viewsghazal • Urdu