یہ خوباں شہر کے ہم سے بہت ہشیاری کرتے ہیں

By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
یہ خوباں شہر کے ہم سے بہت ہشیاری کرتے ہیں
ہمیں سادہ سمجھ کر خوب خوش گفتاری کرتے ہیں
بڑی مشکل سے توڑے ہیں یہ معمولات ہجر آخر
سو اک عرصہ ہوا دن میں ہی شب بیداری کرتے ہیں


نہیں پاتے در و دیوار میں گھر کی کوئی صورت
تو ہم گھر کے تصور میں در و دیواری کرتے ہیں
کہانی جو کراتی ہے وہی تو ہم کو کرنا ہے
بھلا ہو یا برا ہو ہم تو بس کرداری کرتے ہیں


ہمیں طیار ہونے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی
کہ ساری زندگی مرنے کی ہی تیاری کرتے ہیں
تو ہم قانون شکنی کی طرح کرتے ہیں رات اپنی
سحر سے شام تک ہر کام جب سرکاری کرتے ہیں


شرابیں تو کلیدیں ہیں لہو کے قید خانوں کی
سو تالے توڑتے ہیں اور دریا جاری کرتے ہیں
سنا ہے تندرستی عشق میں اچھی نہیں ہوتی
چلو جی فرحت احساسؔ اب ذرا بیماری کرتے ہیں


80385 viewsghazalUrdu