یہ مرے گھر کے تین چار درخت

By ikram-arfiFebruary 6, 2024
یہ مرے گھر کے تین چار درخت
ہیں دساور کے تین چار درخت
پھر ہوا شاخ شاخ سے لپٹی
آشنا کر کے تین چار درخت


جیسے کاغذ کی ایک دو کلیاں
جیسے پتھر کے تین چار درخت
دشت درپیش ہے سو چلتا ہوں
آنکھ میں بھر کے تین چار درخت


شاہ نے باغ میں اگائے ہیں
سنگ مرمر کے تین چار درخت
دشت دل اس قدر پھلا پھولا
دیکھے مر مر کے تین چار درخت


آخری وقت بس ہوائیں تھیں
اور صنوبر کے تین چار درخت
96783 viewsghazalUrdu