یہ مری ضد ہے کہ مجھ کو وہ منانے آئے

By amir-masoodFebruary 5, 2024
یہ مری ضد ہے کہ مجھ کو وہ منانے آئے
ساتھ میرے بھی وہ کچھ وقت بتانے آئے
کب تلک آنکھیں کھلیں گی مری موبائل سے
بھیگی زلفوں سے وہ مجھ کو تو جگانے آئے


بات محفل میں جو آئی کبھی دل داری کی
دوست سارے وہ مجھے یاد پرانے آئے
ہائے افسوس یہ بارش مری سوتن ہے بنی
دھوپ نکلے تو وہ کپڑوں کو سکھانے آئے


مے کدوں میں تو بہت پی ہے مگر اب عامرؔ
ہے یہی چاہ کہ مجھ کو وہ پلانے آئے
55145 viewsghazalUrdu