یہ سوچنا بھی غلط ہے کہ دل نشیں ہے بہت

By ahmar-nadeemFebruary 5, 2024
یہ سوچنا بھی غلط ہے کہ دل نشیں ہے بہت
کمال دنیا تو اتنا ہے بے یقیں ہے بہت
کہیں جھلس ہی نہ جائے غبار یادوں کا
کہ میرے خون کی رفتار آتشیں ہے بہت


گمان ہونے لگا ہے یہ کس کے ہونے پر
کہیں کہیں جو نہیں ہے کہیں کہیں ہے بہت
شکست کھائی ہے لیکن شکستہ پا تو نہیں
ہمارے پاؤں کے نیچے ابھی زمیں ہے بہت


بکھیر دے نہ کہیں پھر متاع دیدہ و دل
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں جاگزیں ہے بہت
ضرر رساں نہ ہوا کچھ مرا غنیم مگر
کسے خبر تھی کہ مجھ کو یہ آستیں ہے بہت


ہمارا دل بھی دکھاتا ہے نت نئے کرتب
تمہارا دل بھی تو شاید تماش بیں ہے بہت
75852 viewsghazalUrdu