یوں تو ہونے کو کیا نہیں ہوتا
By a.r-sahil-'aleeg'January 18, 2024
یوں تو ہونے کو کیا نہیں ہوتا
آدمی بس خدا نہیں ہوتا
درد دل ٹوٹنے کا جان من
یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا
فاعلاتن فعلاتن فعلن
اس سے مصرع روا نہیں ہوتا
پینے پڑتے ہیں سینکڑوں آنسو
درد خود تو دوا نہیں ہوتا
جو بھی انساں ہے یار انساں ہے
کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا
ویسے رشتہ بہت سے ہیں ساحلؔ
درد سا اک سگا نہیں ہوتا
آدمی بس خدا نہیں ہوتا
درد دل ٹوٹنے کا جان من
یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا
فاعلاتن فعلاتن فعلن
اس سے مصرع روا نہیں ہوتا
پینے پڑتے ہیں سینکڑوں آنسو
درد خود تو دوا نہیں ہوتا
جو بھی انساں ہے یار انساں ہے
کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا
ویسے رشتہ بہت سے ہیں ساحلؔ
درد سا اک سگا نہیں ہوتا
34683 viewsghazal • Urdu