بے حجابانہ وہ کل جب بر سر محفل گئے

By aamir-ataFebruary 25, 2024
بے حجابانہ وہ کل جب بر سر محفل گئے
جتنے مرجھائے تھے چہرے ایک دم سے کھل گئے
یار وہ نازک ہے اتنا میں نے اس کے آنے پر
فرش پھولوں کا بچھایا پاؤں پھر بھی چھل گئے


جانے اس آواز میں کیسی شفا موجود ہے
اس نے پوچھا ٹھیک ہو اور زخم خود ہی سل گئے
وہ جو اپنی بے تکی باتوں سے ہی مشہور ہے
اس کی باتیں سننے کو سب شہر کے عاقل گئے


صرف اس کے حسن کی خیرات لینے کے لئے
بن کے شاہان زمانہ بھی وہاں سائل گئے
بیٹھے بیٹھے اس نے ندی میں ڈبوئے پاؤں اور
دیکھتے ہی دیکھتے دونوں کنارے مل گئے


اپنی منزل پانے والوں میں وہی کچھ لوگ ہیں
روند کر اپنی انا جو جانب منزل گئے
76477 viewsghazalUrdu