زخم محبت پاگلپن بیماری طلب کچھ ہے
By ananth-faaniFebruary 25, 2024
زخم محبت پاگلپن بیماری طلب کچھ ہے
غزل کو ہے درکار یہ سارا کچھ صاحب کچھ ہے
چپ کیوں نہیں بیٹھے تھے جب کہنے کو کچھ نہیں تھا
اور اب کیوں چپ بیٹھے ہو کہنے کو جب کچھ ہے
عشق کے سر دل سے ایسے ہی کہاں نکلتے ہیں
ساز استاد نے چھیڑا تو سنگیت سا اب کچھ ہے
اک دن دکھ جائے گا شاید سب کچھ مایا ہے
اس دن تک تو لیکن یہ مایا ہی سب کچھ ہے
ورنہ کچھ بھی کہہ کے بلا لیتا تھا جو ہم کو
آج اننتؔ کہا اس نے اس کا مطلب کچھ ہے
غزل کو ہے درکار یہ سارا کچھ صاحب کچھ ہے
چپ کیوں نہیں بیٹھے تھے جب کہنے کو کچھ نہیں تھا
اور اب کیوں چپ بیٹھے ہو کہنے کو جب کچھ ہے
عشق کے سر دل سے ایسے ہی کہاں نکلتے ہیں
ساز استاد نے چھیڑا تو سنگیت سا اب کچھ ہے
اک دن دکھ جائے گا شاید سب کچھ مایا ہے
اس دن تک تو لیکن یہ مایا ہی سب کچھ ہے
ورنہ کچھ بھی کہہ کے بلا لیتا تھا جو ہم کو
آج اننتؔ کہا اس نے اس کا مطلب کچھ ہے
71278 viewsghazal • Urdu