ظالم کو بھی پھر نشۂ بیداد گری ہے

By abdullah-saqibJanuary 6, 2024
ظالم کو بھی پھر نشۂ بیداد گری ہے
پھر ہم ہیں وہی پھر وہی آشفتہ سری ہے
وہ آئے ہے جب یاد تو لگتا ہے کچھ ایسا
جیسے کوئی چٹان سی سینے پہ دھری ہے


زاہد نے اسے دیکھا جو ٹک دیکھ کے بولا
آدم کی ہی بیٹی ہے کہ یہ حور پری ہے
محفل میں مجھے آپ کہا اس گل تر نے
اب آپ ہے کس زمرے کا یہ درد سری ہے


کیا حال ہوا خواہش یک دید میں میرا
آنکھوں میں کوئی اشک بھی باقی نہ تری ہے
یہ سطر لکھی آخری اور بند کیں آنکھیں
کیا خوب تری چارہ گری چارہ گری ہے


اس طرح سے ملتا ہے اگر عہدہ و منصب
کیا وقعت املاک ہے کیا تاجوری ہے
91348 viewsghazalUrdu