زلزلوں کا اثر نہیں ہوتا

By fahmi-badayuniFebruary 6, 2024
زلزلوں کا اثر نہیں ہوتا
گھر ادھر سے ادھر نہیں ہوتا
صرف شعلوں کی داد ملتی ہے
کیا سلگنا ہنر نہیں ہوتا


ریل گاڑی سے کود جاؤں کیا
اب اکیلے سفر نہیں ہوتا
عشق اس فیصلے کو کہتے ہیں
جو کبھی سوچ کر نہیں ہوتا


قبر میں روز حشر سے پہلے
زندہ ہونے کا ڈر نہیں ہوتا
سب کرشمہ ہے شعر ہونے کا
شعر کہنا ہنر نہیں ہوتا


میں ہی زخموں کو چھیڑ دیتا ہوں
جب کوئی چارہ گر نہیں ہوتا
جس کے قبضے میں دنیا ہوتی ہے
اس کا دنیا میں گھر نہیں ہوتا


75376 viewsghazalUrdu