زمانہ بھر سے ڈر کر کیا کروں میں
By betakalluf-shaajapuriJanuary 20, 2024
زمانہ بھر سے ڈر کر کیا کروں میں
ڈروں تو اپنی بیوی سے ڈروں میں
کسی دن پھینک دینا ان کے اوپر
مروں تو ان کے اوپر ہی مروں میں
کہیں سے شام کی مل جائے روٹی
یہ بھوکا ہاتھ اب کس پر دھروں میں
دوا کھاؤں کہ روٹی یا کے حلوہ
یہ دس کا نوٹ ہے کیا کیا کروں میں
اجازت ہو تو تیرے گھر میں آ کر
سحر سے شام تک پانی بھروں میں
بڑے گھر کا مجھے داماد کر دے
پراٹھے روز پھوکٹ میں چروں میں
چلو شاعر تو میں خود بن گیا ہوں
کوئی بتلائے کے اب کیا کروں میں
کبھی روؤں کبھی مچھر بھگاؤں
وہ سوئے رات بھر جاگا کروں میں
چھپا لوں بے تکلفؔ میں بھی کٹے
سعودی جا کے پھر چندہ کروں میں
ڈروں تو اپنی بیوی سے ڈروں میں
کسی دن پھینک دینا ان کے اوپر
مروں تو ان کے اوپر ہی مروں میں
کہیں سے شام کی مل جائے روٹی
یہ بھوکا ہاتھ اب کس پر دھروں میں
دوا کھاؤں کہ روٹی یا کے حلوہ
یہ دس کا نوٹ ہے کیا کیا کروں میں
اجازت ہو تو تیرے گھر میں آ کر
سحر سے شام تک پانی بھروں میں
بڑے گھر کا مجھے داماد کر دے
پراٹھے روز پھوکٹ میں چروں میں
چلو شاعر تو میں خود بن گیا ہوں
کوئی بتلائے کے اب کیا کروں میں
کبھی روؤں کبھی مچھر بھگاؤں
وہ سوئے رات بھر جاگا کروں میں
چھپا لوں بے تکلفؔ میں بھی کٹے
سعودی جا کے پھر چندہ کروں میں
25039 viewsghazal • Urdu