زمیں کی حرص میں میں آسماں کو چھوڑ آیا
By February 26, 2024
زمیں کی حرص میں میں آسماں کو چھوڑ آیا
حریص لا مکاں دیکھو مکاں کو چھوڑ آیا
تمہارے واسطے پھولوں کو الوداع کہہ کر
بھری بہار میں میں گلستاں کو چھوڑ آیا
خضر کے روپ میں رہزن تھے رہنما میرے
یہی سبب تھا کہ میں کارواں کو چھوڑ آیا
وہ اک اسیر ستم ہائے روزگار ہوں میں
قفس کے واسطے جو آشیاں کو چھوڑ آیا
کہاں سے اف کہاں لے آئی جستجو تیری
تری تلاش میں سارے جہاں کو چھوڑ آیا
حریص لا مکاں دیکھو مکاں کو چھوڑ آیا
تمہارے واسطے پھولوں کو الوداع کہہ کر
بھری بہار میں میں گلستاں کو چھوڑ آیا
خضر کے روپ میں رہزن تھے رہنما میرے
یہی سبب تھا کہ میں کارواں کو چھوڑ آیا
وہ اک اسیر ستم ہائے روزگار ہوں میں
قفس کے واسطے جو آشیاں کو چھوڑ آیا
کہاں سے اف کہاں لے آئی جستجو تیری
تری تلاش میں سارے جہاں کو چھوڑ آیا
74925 viewsghazal • Urdu